کوئی ہمیں مطلوب ہے اور کوئی ہمارا طالب ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

کوئی ہمیں مطلوب ہے اور کوئی ہمارا طالب ہے
کسی کو ذات کی جستجو کوئی وجود کا طالب ہے

دوستی عداوت ہو نفرت کہ محبت اپنے یا بیگانے
سارے جذبوں اور رشتوں پہ عشق ہمیشہ غالب ہے

من کی آزادی کا خَوگر ہر کوئی ہوتا ہے لیکن
آزاد نہیں ہونے دیتا روحوں سے لِپٹا قالب ہے

اپنے مقصد کی خاطر تاریخ رقم کرنے والوں میں
اور بڑے لوگوں کی طرح ایک نام حبیب جالب ہے

ہم نے بھی عظمٰی اپنے من سے پوچھا کئی بار یہی
کیا تیرا مطلوب ہے آخر تو کس شے کا طالب ہے

کوئی ہمیں مطلوب ہے اور کوئی ہمارا طالب ہے
کسی کو ذات کی جستجو کوئی وجود کا طالب ہے

Rate it:
Views: 512
10 Oct, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL