کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں

Poet: شاہ آثم By: Hassan, Sanghar

کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں
اس ارض اور سما کی بنیاد ہیں تو ہم ہیں

وحدت سے تا بہ کثرت سب سے ظہور اپنا
گر ایک ہیں تو ہم ہیں ہفتاد ہیں تو ہم ہیں

سب مرز بوم عالم ہے جلوہ گاہ اپنی
ویران ہیں تو ہم ہیں آباد ہیں تو ہم ہیں

اقلیم خیر و شر میں ہے حکم اپنا جاری
گر داد ہیں تو ہم ہیں بیداد ہیں تو ہم ہیں

اس گلشن جہاں میں سب ہے بہار اپنی
گر قمری ہیں تو ہم ہیں شمشاد ہیں تو ہم ہیں

ہیں جوہر اپنے یارو ہر رنگ میں نمایاں
گر تیغ ہیں تو ہم ہیں جلاد ہیں تو ہم ہیں

ہے دست گاہ اپنی سب شے میں کار فرما
گر فصد ہیں تو ہم ہیں فصاد ہیں تو ہم ہیں

یہ دارگیر عالم سب اپنی حالتیں ہیں
گر دام ہیں تو ہم ہیں صیاد ہیں تو ہم ہیں

یہ راز ہم نے آثمؔ خادم صفی سے پایا
گر رشد ہیں تو ہم ہیں ارشاد ہیں تو ہم ہیں

Rate it:
Views: 723
29 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL