ہمیں نہیں معلوم عید کیسے کہتے ہیں

Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ), K.S.A

ہمیں جو کہتے تھے جان کبھی
اب پوچھتے ہیں تیرا نام ہے کیا

کیوں آ جاتے ہو بار بار تنگ کرنے
تمہں آخر مجھ سے کام ہے کیا

میری شعری کو جو اک نظر نا دیکھئے
لکی ! میری شعر اتنے عام ہے کیا

دل بہلانے کو اور بھی راستے تھے مگر
دل چاہے ہر پل ُاسی کو پھر صبح و شام ہے کیا

نہیں آتا ُاسے خود بخود خیال میرا
الہٰی ! ہر چیز ُاس کے پاس تمام ہے کیا

ہمیں نہیں معلوم عید کیسے کہتے ہیں
میرا دل ہے افسردہ پھر جشن و صام ہے کیا

ہاتھوں کی لکیروں میں ڈوب بھی جاؤں اگر
پھر بھی نہیں معلوم میرے اندر خام ہے کیا

Rate it:
Views: 1010
02 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL