کچھ کمی سی رہ جاتی ہے
Poet: زبیر جموں By: محمد زبیر, Haveli Lakhaدل کی گہرائیوں میں بسا ہوا اک خواب
جس کی تلاش میں نکل پڑا تھا کبھی
راستے میں مل جاتے ہیں سوالات
جن کے جوابات نہیں ملتے کبھی
مگر پھر بھی چلتا رہتا ہوں
کسی امید پر، کسی خواہش پر
شاید منزل نصیب نہ ہو
مگر سفر تو خود اک حسین خواب ہے
راہوں میں مل جاتے ہیں نئے منظر
نئی صحبتیں، نئی یادیں
کبھی کبھار تو اس سفر کا مقصد بھول جاتا ہوں
مگر پھر بھی چلتا رہتا ہوں
کس قدر خوبصورت ہوتا ہے سفر
جب تک منزل نظروں کے سامنے نہ ہو
جب تک خواب زندہ رہتا ہو
جب تک امید کا دیا جلتا رہتا ہو
اور پھر ایک دن یوں ہوتا ہے
کہ منزل نظروں کے سامنے آجاتی ہے
خواب تو پورا ہو جاتا ہے
مگر کچھ کمی سی رہ جاتی ہے
شاید اس لئے کہ سفر ختم ہو جاتا ہے
مگر کچھ کشش باقی رہ جاتی ہے
مجھے ہر بار مل جاتی ہے منزل
مگر ہر بار کچھ کمی سی رہ جاتی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






