رو پڑا میں تو ہچکیاں لے کر
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonہاتھ میں تیر اور کماں لے کر
جان ِ جاں کیا ملے گا جاں لے کر
میں جلاتا پھروں گا گھی کے چر
آپ کے دل میں اک مکاں لیکر
ایک عرصے سے مہربان نہیں
کیا کروں گا میں آسماں لیکر
زندگی دو گھڑی کو سانس تو لے
پھر رہی ہے کہاں کہاں لے کر
آپ ہی کی زبان بولتی ہے
بے زبانی مری زباں لیکر
تشنہ لب کھیلتا ہے ساحل پر
اک سمندر کی دھجیاں لے کر
مانگ بھرنے تری ستاروں سے
آرہا ہوں میں کہکشاں لے کر
غم زمانے کے اور فرقت کے
جائیں گے ہم بھلا کہاں لیکر
برق چاہے تو شوق پورا کرے
چل پڑے ہم تو آشیاں لیکر
تپتے سورج کا جب زوال ہوا
آگئے دوست سائباں لے کر
آج پھر ماں جو خواب میں آئی
روپڑا میں تو ہچکیاں لے کر
اپنے حصوں سے سب ہی ناخوش تھے
مطمئن ایک میں تھا ماں لے کر
وقت کے ساتھ کاروبار کیا
سُود دینا پڑا ، زیاں لے کر
میں نے لے لی “بیاض والد کی “
خوش تھے بھائی بہن مکاں لے کر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






