کھلیں گے گل تو تری یاد مجھ کو آئے گی

Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistan

کھلیں گے گل تو تری یاد مجھ کو آئے گی
حسیں بہار کی رت میرا دل جلائے گی

میں کر سکوں گی نہ تنہائیوں سے سمجھوتہ
تری کمی تو مجھے ہر گھڑی ستائے گی

یہ حسن اور ادا ہیں تمہاری ہی خاطر
مری وفا کیا کبھی بھی نہ رنگ لائے گی

جو اک حساس سی لڑکی بہت اداس ہے اب
تمہارے غم میں کبھی بھی نہ مسکرائے گی

کروں گی یاد تمہیں جب بھی آدھی رات کو میں
تو شعلے چاندنی مجھ پر بہت گرائے گی

تمام رات خیالوں میں تم ہی آؤ گے
تو ایسے میں بھلا کب نیند مجھ کو آئے گی

تمہارا کیا ہے مجھے بھول جاؤ گے اک دن
تمہاری سارہ تمہیں نہ کبھی بھلائے گی

Rate it:
Views: 719
30 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL