کہاں گے وہ اس گھر کے مہمان ، جو دوڑے آتے تھے ہر اذان پہ
کہاں گئی وہ رونقیں سب ، کیوں اب مساجد اداس لگتی ہیں
کہاں گے وہ رمضان کے شوقین ، تڑپ تھی جن کو عبادتوں کی
جہاں رگڑ کے تھے ماتھے سجاے، وہ اب مساجد کیوں بیابان لگتی ہیں
وہ جلدی آنا، جگا بنانا، قرآن پڑھنا اور روتے جانا
جہاں پڑھی رات گے تک تراویح، وہ اب مساجد کیوں ویران لگتی ہیں
جہاں پہ کرتے تھے تم افطاری، جہاں پہ بانٹی تھی تم نے دیگیں
کیوں بھول گے تم سمیٹ کر ثواب ، کیوں اب مساجد ادھار لگتی ہیں
ہوتے تھے حیران دیکھ کر غیر مسلم، بنا فرق کے پڑھنا نمازیں وہ ساری
وہ اب پوچھتے ہیں ہم کو بتاؤ ، کیوں اب مساجد ناقابل استعمال لگتی ہیں
وہ سجانا اسکو، اعتکاف کرنا ، پڑھنا حمد اور وہ نعتیں ساری
کہاں گئی وہ تمہاری عجزو انکساری، کیوں اب مساجد گزرگاہ لگتی ہیں