کہاں ہوتے ہو

Poet: Touseef Ali Khan By: Touseef Ali Khan, Lahore

کہاں ہوتے ہو، بات کرتے نہیں نظر ملاتے نہیں
پاس ہوتے نہیں، اور دل سے دور جاتے نہیں

کہاں ہوتے ہو، چشم حیراں میں ہے ویرانیاں بہت
کہاں ہوتے ہو کہ ویرانیوں میں ہے پریشانیاں بہت

کہاں ہوتے ہو، بےبسی یاس کا عالم ہے
ہونٹ خشک ہے، اور پیاس کا عالم ہے

آجاؤ کہ یہ دل بے قرار ہے بہت
آجاؤ کہ ترسی انکھیوں کو انتطار ہے بہت

کہاں ہوتے ہو، کہ فصل بہار میں پت جھڑ کا گماں ہوتا ہے
کہاں ہوتے ہو کہ ویراں سارا جہاں ہوتا ہے

کہاں ہوتے ہو، بہت یاد آتے ہو
کیوں آزماتے ہو، کیوں دل جلاتے ہو، کیوں دور جاتے ہو
مت آزمایا کرو، نہ دل جلایا کرو، نہ دور جایا کرو
 

Rate it:
Views: 514
03 Jul, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL