کہاں ہے پیار کی تھپکی، پذِیرائی کہاں ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaکہاں ہے پیار کی تھپکی، پذِیرائی کہاں ہے
تبھی تو شاعری میں دوست گہرائی کہاں ہے
میں کِس کے سامنے اپنا دلِ بیتاب کھولوں
نیا ہوں شہر میں اب تک شناسائی کہاں ہے
کبھی تھی اِن سے وابستہ کہانی، جانتے ہو
سجی تو ہیں مگر آنکھوں میں بِینائی کہاں ہے
مُجھے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے تھے
ابھی سوچوں گلی، کُوچے وہ ہمسائی کہاں ہے
مبادا بُھول بیٹُھوں میں تُمہارا ناک نقشہ
کہاں ہے بے وفا تُو، میرے ہرجائی کہاں ہے؟؟
جگر پر جا بجا سرطان پلتے ہیں، مسِیحا!
تُمہاری چشم تاثیریں، مسیحائی کہاں ہے؟
مُجھے تسلِیم جذبے ڈھل چکےہیں میرے لیکن
تُمہارے حسن کی پہلی سی رعنائی کہاں ہے؟
اِرادے سے نہیں بس بے اِرادہ پُوچھ بیٹھا
کمانیں کھینچ کے رکھتی وہ انگڑائی کہاں ہے
میں اپنے آپ کو بے وجہ قیدی مانتا ہوں
کِسی نے زُلف کی زنجِیر پہنائی کہاں ہے
نہیں روٹی تو ہم کو چاہیئے کھائیں سموسے
ہمارے ہاں تو سب اچّھا ہے، مہنگائی کہاں ہے؟
سُنائی دے رہے ہیں چار سُو اب غم کے نوحے
کبھی گونجی تھی جو حسرتؔ وہ شہنائی کہاں ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






