کہاں ہے پیار کی تھپکی، پذِیرائی کہاں ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaکہاں ہے پیار کی تھپکی، پذِیرائی کہاں ہے
تبھی تو شاعری میں دوست گہرائی کہاں ہے
میں کِس کے سامنے اپنا دلِ بیتاب کھولوں
نیا ہوں شہر میں اب تک شناسائی کہاں ہے
کبھی تھی اِن سے وابستہ کہانی، جانتے ہو
سجی تو ہیں مگر آنکھوں میں بِینائی کہاں ہے
مُجھے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے تھے
ابھی سوچوں گلی، کُوچے وہ ہمسائی کہاں ہے
مبادا بُھول بیٹُھوں میں تُمہارا ناک نقشہ
کہاں ہے بے وفا تُو، میرے ہرجائی کہاں ہے؟؟
جگر پر جا بجا سرطان پلتے ہیں، مسِیحا!
تُمہاری چشم تاثیریں، مسیحائی کہاں ہے؟
مُجھے تسلِیم جذبے ڈھل چکےہیں میرے لیکن
تُمہارے حسن کی پہلی سی رعنائی کہاں ہے؟
اِرادے سے نہیں بس بے اِرادہ پُوچھ بیٹھا
کمانیں کھینچ کے رکھتی وہ انگڑائی کہاں ہے
میں اپنے آپ کو بے وجہ قیدی مانتا ہوں
کِسی نے زُلف کی زنجِیر پہنائی کہاں ہے
نہیں روٹی تو ہم کو چاہیئے کھائیں سموسے
ہمارے ہاں تو سب اچّھا ہے، مہنگائی کہاں ہے؟
سُنائی دے رہے ہیں چار سُو اب غم کے نوحے
کبھی گونجی تھی جو حسرتؔ وہ شہنائی کہاں ہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






