کہیں پلکیں اوس سے دھو گئی کہیں دل کو پھولوں سے بھر گئی

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

کہیں پلکیں اوس سے دھو گئی کہیں دل کو پھولوں سے بھر گئی
تیری یاد سولہ سنگار ہے جسے چھو دیا وہ سنور گئی

میں سنہرے پتوں کا پیڑ ہوں ، میں خزاں کا حسن و وقار ہوں
میرے بال چاندی کے ہو گئے میرے سر پہ دھوپ ٹھہرگئی

میرا شاعرانہ سا خواب بھی جسے لوگ کہتے ہیں زندگی
انہیں ناخداؤں کے خوف سے وہ چڑھی ندی میں اُتر گئی

تیری آرزو تیری جسجتو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی
میری داستاں تیری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

اُنہیں دو گھروں کے قریب ہی کہیں آگ لے کے ہوا بھی تھی
نہ کبھی تمہاری نظر گئی نہ کبھی ہماری نظر گئی

نہ غموں کا میرے حساب لے نہ غموں کا اپنے حساب دے
وہ عجیب رات تھی کیا کہیں جو زندگی گزرگئی سو گزر گئی

Rate it:
Views: 550
23 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL