کیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا کسی کو شمع کی طرح جلتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کانٹوں پے چلتا دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اندھرے میں روتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوتنہائیوں میں بات کرتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوخود سے لڑتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کوشیشے کی طرح ٹوٹتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو غموں میں مسکراتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو باتھوں سے لکیر مٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنی خوشیاں لوٹاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو کسی کہ لیے دنیا بھلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو اپنے خواب جلاتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
کیا کسی کو زندگی سے بھاگتے دیکھا ہے
اگر نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






