کیا کہوں کیا لِکھوں
Poet: Saleem Ishrat Hashmi By: سلیم عشرت ھاشمی, Karachiتری آنکھوں میں جو اک لمحہ ستارے چمکے
درد کےعنواں سب ہی دل میں ہمارے دمکے
درماںِ غم ترا گرچہ مرے پاس نہیں
یہ اُداسی بھی تری ہمیں راس نہیں
رات بھرکُھرچتی ر ہی روح کو اس غم کی کسک
تری آنکھوں کا نمک
ترے ہونٹوں کی رمق
جنبش بازو کا یہ سفر کیسا ہے
رہ معلوم نہیں رہگزر کیسا ہے
آبلہ پا ہو تم تو شکستہ پا ہم بھی ہیں
نگار خانہِ دل میں تو تنہا سب ہی ہیں
بھٹکتے ہم بھی ہیں غم کے دالانوں میں
گو گھِرے رہتے ہیں ہمہ وقت اُجالوں میں
اک بے نام اُداسی ذات میں بستی ہے
کوئ انجانی خلش ہر آن ہمیں ڈستی ہے
کوئ آواز خیالوں میں ہم کو بھی ستاتی ہے
کچھ زخموں کی چمک جاں کوکرچاتی ہے
کیوں اداس ہو بے وجہ پریشاں تم ہو
ان دیکھےاندیشوں سےہلکاں تم ہو
یہ جو آج ہے کل کسی طور نہ رہ پائے گا
وقت کے دھارے کوگزرنا ہے گزر جائیگا
ان شمع فروزاں میں گہر کہاں جچتے ہیں
ان آنکھوں میں تو جُگنو ہی بھلے لگتے ہیں
جگنو ہی بھلے لگتے ہیں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






