کیا کہوں کیا لِکھوں

Poet: Saleem Ishrat Hashmi By: سلیم عشرت ھاشمی, Karachi

تری آنکھوں میں جو اک لمحہ ستارے چمکے
درد کےعنواں سب ہی دل میں ہمارے دمکے
درماںِ غم ترا گرچہ مرے پاس نہیں
یہ اُداسی بھی تری ہمیں راس نہیں
رات بھرکُھرچتی ر ہی روح کو اس غم کی کسک
تری آنکھوں کا نمک
ترے ہونٹوں کی رمق
جنبش بازو کا یہ سفر کیسا ہے
رہ معلوم نہیں رہگزر کیسا ہے
آبلہ پا ہو تم تو شکستہ پا ہم بھی ہیں
نگار خانہِ دل میں تو تنہا سب ہی ہیں
بھٹکتے ہم بھی ہیں غم کے دالانوں میں
گو گھِرے رہتے ہیں ہمہ وقت اُجالوں میں
اک بے نام اُداسی ذات میں بستی ہے
کوئ انجانی خلش ہر آن ہمیں ڈستی ہے
کوئ آواز خیالوں میں ہم کو بھی ستاتی ہے
کچھ زخموں کی چمک جاں کوکرچاتی ہے
کیوں اداس ہو بے وجہ پریشاں تم ہو
ان دیکھےاندیشوں سےہلکاں تم ہو
یہ جو آج ہے کل کسی طور نہ رہ پائے گا
وقت کے دھارے کوگزرنا ہے گزر جائیگا
ان شمع فروزاں میں گہر کہاں جچتے ہیں
ان آنکھوں میں تو جُگنو ہی بھلے لگتے ہیں
جگنو ہی بھلے لگتے ہیں

Rate it:
Views: 1070
27 Mar, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL