کیا ہوئی اپنی داستاں جاناں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالکیا ہوئی اپنی داستاں جاناں
وہ جو سب تھا گیا زیاں جاناں
دل محلّے کا تُو پتا دے دے
مجھ میں رہتی ہے تُو کہاں جاناں
گھر جو تعمیر ہونے والا تھا
ہے وہاں سوگ کا سماں جاناں
اب کہاں سے میں ڈھونڈ کر لاؤں
ناں ترا گھر نہ آستاں جاناں
تم بھی جاناں کہیں نہیں موجود
میں بھی جاناں ہوں بے نشاں جاناں
چھوڑ کر تم مجھے ملامت میں
کر گئیں اپنا گم نشاں جاناں
کیا بیاں ہو گا حالِ دل ہم سے
تم سے کچھ بھی نہیں نہاں جاناں
جو فقط یاد میں ہی باقی تھا
مر گیا اپنے درمیاں جاناں
خون رو رو کہ پھٹ گئے دیدے
چھل گیا سینہِ فغاں جاناں
آنکھ میں جل کہ سڑ گئے منظر
چار سُو ہو گیا دھواں جاناں
وقتِ جاری کے سب زمانوں میں
حالتِ دل ہے بے اماں جاناں
وہ جو خوشیوں کا آنے والا تھا
لٹ گیا وہ ہی کارواں جاناں
وصل اور ہجر کی حقیقت کیا
یاں تو سب کچھ ہے رایگاں جاناں
ماتمِ کربِ ہجر سے دل کی
ہو گئی موت ناگہاں جاناں
کوئی امید ہی نہیں باقی
گو زمیں ہو یا آسماں جاناں
نہ رہی دید یار کی خواہش
اور گیا ہجر کا بیاں جاناں
دربدر کر دیا گیا اندر
دل ہوا مجھ میں بے اماں جاناں
پیاس ہے جانیے مجھے کیسی
بیچ دریا ہوں تشنگاں جاناں
ہے ندامت کہ ہو گئی غلطی
گم ہوئے سب ترے گماں جاناں
لگ گئی آگ آسمانوں میں
اور زمیں ہو گئی دھواں جاناں
کربِ آئیندگاں سے فرصت نئیں
اور عذابِ گزشتگاں جاناں
لیے لیے ہوں پھر رہا خود کو
دفن خود کو کروں کہاں جاناں
پھنس کے گرداب میں وہ حالت ہے
نہ زمیں ہے نہ آسماں جاناں
تم ہوئی ہو بہارِ دل میری
میں ہوا تیری ہی خزاں جاناں
عمر بھر جس کی کی گئی تعمیر
ہو گیا خاک آشیاں جاناں
تم بھی میری نہیں ہوئی جانم
میں بھی اپنا رہا کہاں جاناں
میں تمھاری طلب میں مر مر کر
تھک چکا ہوں میں جاناناں جاناں
وہ محبت جو جاوداں تھی کبھی
ہو چکی ہے وہ داستاں جاناں
اب نہیں پاؤں کی زمیں باقی
اب نہیں سر کا آسماں جاناں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






