کیا ہے یہ عورت؟
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا ہے یہ عورت ؟
قربانیوں کی ہے مورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
بہن ہے
بیٹی ہے
ماں ہے
بیوی ہے
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ایک ہو کر نجانے کتنے
رشتے نبھاتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ہر پل آرزویوں کا
گلا گھوٹ کر جیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
نجانے کتنی خواہشیں خود میں
قید کر کے مسکراتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ساری زندگی کسی کو
اپنا بناتے گزار دیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ہر دکھ درد میں اپنوں کا
ساتھ دیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
تنکا تنکا کر کے
آشیانہ بناتی ہے یہ عورت
پر ُاس آشیانے میں کہاں ہے یہ عورت
کیا ہے یہ عورت ؟
کرنے پے آئے تو
سب کر سکتی ہے یہ عورت
مگر پھر بھی بےنام ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
اک نظر میں دوسروں کی
نظروں کو پہچان لیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
خدا نے جتنی عزت اسے بخشی ہے
ُاتنی ہی معاشرے میں بدنام ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
اک سہارے کی تلاش میں
عمر گزار دیتی ہے
مگر ہمیشہ تنہا ہی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص







