کیا ہے یہ عورت؟

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

کیا ہے یہ عورت ؟
قربانیوں کی ہے مورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
بہن ہے
بیٹی ہے
ماں ہے
بیوی ہے
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ایک ہو کر نجانے کتنے
رشتے نبھاتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ہر پل آرزویوں کا
گلا گھوٹ کر جیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
نجانے کتنی خواہشیں خود میں
قید کر کے مسکراتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ساری زندگی کسی کو
اپنا بناتے گزار دیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
ہر دکھ درد میں اپنوں کا
ساتھ دیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
تنکا تنکا کر کے
آشیانہ بناتی ہے یہ عورت
پر ُاس آشیانے میں کہاں ہے یہ عورت
کیا ہے یہ عورت ؟
کرنے پے آئے تو
سب کر سکتی ہے یہ عورت
مگر پھر بھی بےنام ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
اک نظر میں دوسروں کی
نظروں کو پہچان لیتی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
خدا نے جتنی عزت اسے بخشی ہے
ُاتنی ہی معاشرے میں بدنام ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟
اک سہارے کی تلاش میں
عمر گزار دیتی ہے
مگر ہمیشہ تنہا ہی ہے یہ عورت
پر کیا ہے یہ عورت ؟

Rate it:
Views: 954
22 Jul, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL