کیوں تعلق مجھ سے بڑھ کر ہے ترا اغیار سے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Sialkot

پھر یہ کیسی مصلحت ہے قافلہ سالار سے
کیوں تعلق مجھ سے بڑھ کر ہے ترا اغیار سے

دیکھنی ہو میری صورت تو چلے آنا کبھی
میری چلتی ہے کہانی مصر کے بازار سے

میرے حصے میں ہیں کانٹے ، میرے حصے میں خزاں
پھر مجھے لینا ہی کیا ہے پھول کی مہکار سے

اب پیارے لگ رہے ہیں درد کے موسم سبھی
تجھ کو پانے کی یہ خواہش میری خواہش ہی رہی

تیری سنگت میں گزارے دن سبھی بیکار سے
چبھ رہی ہے مجھ کو اپنی ہار لیکن دیکھنا

جیت لوں گی ایک دن میں تجھ کو اپنے پیار سے
زندگی کے کرب وشمہ مجھ پہ بھاری ہوگئے

مجھ کو سارے لگ رہے ہیں تیر سے ، تلوار سے

Rate it:
Views: 785
29 May, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL