گوشہ تنہائی میں کچھ پل گزاریے

Poet: UA By: UA, Lahore

گوشہ تنہائی میں کچھ پل گزاریے
اور خانہ دل پہ لگے جالے اتاریے

نینوں کی کھڑکیوں کو بند کیجئے ذرا
اپنا وجود اپنے تخیل میں لائیے

اپنے ساتھ اپنے کچھ پل گزاریے
اور دل کے دریچوں کا مقفل اتاریے

دنیا کے شور و ہنگم سے دور جائیے
اور کبھی دشت و بیاباں کو فراریے

آئینہ نگاہ میں نہاں پیکر حسیں کا
آئینہ دل میں کبھی پر تو اتاریے

دنیا کے لیے تم نے کیا کیا نہیں کیا ہے
کوئی خواب کوئی فسانہ اب ہم واریے

عظمٰی جو فقط اپنا ظاہر سنوارتے ہیں
اب ان سے یہ کہو کہ باطن سنواریے

Rate it:
Views: 451
17 Aug, 2009
More Sad Poetry