گُھور نہیں
Poet: Rasheed Hasrat By: رشید حسرت, کوئٹہدکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے چور نہیں
ہے دوش میرا، ترا کوئی بھی قصور نہیں
ملے گی داد بھی تنقید بھی تو ہو گی میاں
جو نیک مشورہ دیتا ہے اس کو گُھور نہیں
بٹھایا کس نے تمہیں مسندِ صدارت پر
وہ جس کو خود بھی ابھی شعر کا شعور نہیں
بہت سے شعر تھے اچھے تو کچھ برے بھی تھے
منانا سچ کا کبھی تم برا حضور نہیں
یہ اور بات کہ چپ چاپ ہم تھے ایک طرف
پکڑ پہ آئیں تو فن آپ کا بھی دور نہیں
وہ جس نے اپنے بزرگوں کو روند ڈالا ہے
وہ نہرِ فن کو کبھی کر سکا عبور نہیں
یہ بات یونہی نہیں کی ہے کچھ ثبوت بھی ہے
چمکنے والے سبھی چہرے پاک نور نہیں
سبھی پجاری ہوئے آج اجلے چہروں کے
کہیں پہ موسیٰؔ نہیں ہے، کہیں پہ طورؔ نہیں
پڑھے جو شعر مرے سب کو موت چاٹ گئی
رشیدؔ دل سے نکالا، رکھا فُتُور نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






