تلاشا آسمانوں میں

Poet: Rasheed Hasrat By: رشید حسرت, Quetta

زمیں پر جس کو ڈھونڈا اور تلاشا آسمانوں میں
وہی بے چہرگی میں آن ٹھہرا ہے دھیانوں میں

خوشی کے سارے معنی بے معانی ہوتے جاتے ہیں
اداسی حکمراں نے بانٹ ڈالی ہے کسانوں میں

یہاں پر دندناتے پھر رہے بدنام غارت گر
پٹا کرتے ہیں بس معصوم سے افراد تھانوں میں

لکھا کر ہم بھی لائے دوستو اشعار لوگو سے
ابھی کچھ روز، دیکھو گے ہمیں اونچی اڑانوں میں

توجہ ہو کہ ہم نے اک فسانے کی بنا ڈالی
"دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں"

ابھی جتنا بھی بدلو بات تم نے جو کہا اچّھا
کبھی نکلے ہوئے بھی تیر لوٹے ہیں کمانوں میں؟

یقیں حسرتؔ اسے کیسے دلاؤں بے گناہی کا
کہ جس نے عمر بھر مجھ کو رکھا ہے بد گمانوں میں

Rate it:
Views: 86
11 Apr, 2026
More Sad Poetry