گڑیا کی شادی
Poet: مقدس مجید By: Muqadas Majeed, Kasurمیری یہ نظم ان لڑکیوں کے نام جن کو گڑیا کی طرح بچپن میں ہی بیاہ دیا جاتا ہے!!!
"گڑیا کی شادی"
جس طرح سے کبھی، میں بیاہ گڑیا کا رچاتی تھی
اپنی سب سکھیوں، سہیلیوں کو بخوشی بلاتی تھی
پھر اپنی گڑیا کو اک سرخ لباس پہناتی تھی
بندیا، چوڑیوں اور جھمکوں سے اسکو خوب سجاتی تھی
مگر اس کو یوں سجاتے سجاتے، یہ کبھی نہ سوچتی تھی
کہ اس گڑیا ہی کی طرح، میں بھی سجا دی جاؤں گی
چاہے چاہوں یا نہ چاہوں، ڈولی میں بٹھا دی جاؤں گی
آج یہ جو لوگ میری سجاوٹ کو سراہتے ہیں
خوف کی سرخ میری آنکھوں میں انکو کیوں نہیں دکھتی؟
یہ جو میرے سر پر اک حسین سرخ دوپٹہ ہے
یہ میرے خوابوں کے لہو سے رنگا ہوا کیوں لگتا ہے؟
یہ لوگوں کے جھومنے اور گانے کی صدائیں
میری آواز کو کیوں کھا رہی ہیں؟
جو مجھ جیسیوں کے بچپن کی میّت کو قبرستان لے جائے
یہ دریچے سے دکھتی ڈولی مجھے، وہ چارپائی کیوں لگتی ہے؟
یہ قاضی ایک ہی وقت میں دو کام جانے کیسے کرتا ہے؟
نکاح اور بچپن کا جنازہ ایک ساتھ پڑھاتا ہے
میں روئی اور کپڑے کی بنی ہوئی گڑیا نہیں ہوں ابّا
کہ مجھ میں خواب و جذبات بھرا اک دل دھڑکتا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






