گھر کی دیواروں سے لگ کر روتی ہوں
Poet: Maria Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbdوہ جہگیں جہاں
ہم بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے
تم مسکرا مسکرا کر مری ہر بات سنا کرتے تھے
جب وھ جہگیں چومتی ہوں
گھر کی دیواروں سے لگ کر روتی ہوں
تیرے جیسا پیار مجھے اب کہیں سے نہیں ملتا
میں وہ لمحے یاد کر کے لکھتی ہوں
گھر کی دیواروں سے لگ کر روتی ہوں
کتنی تنہاہ ہوں میں کتنی
جب بھی دل کی تنہائی دیکھتی ہوں
گھر کی دیواروں سے لگ کر روتی ہوں
مرا دل چاہتا ہے تم مجھے پکارو
"ماریہ ماریہ ماریہ"
اور میں بار بار کہوں آتی ہوں "ابو"
ایک منٹ دو منٹ
وہ اپنے بہانے اور تیرا بار بار بلانا
جب یاد کرتی ہوں
گھر کی دیواروں سے لگ کر روتی ہوں
جب بھی باپ بیٹی کا رشتہ دیکھتی ہوں
میں خود میں جلتی ہوں
میں اپنا وقت یاد کرتی ہوں
مجھے سمجھ نا آئی
وہ صبح کیوں تیری آنکھیں مرے چہرے پہ ٹھہری
میں کیوں پڑھ نہ پائی
تیرے چہرے کی بےچینی
لیکن اب جب وہ منظر یاد
کرتی ہوں
میں سارا منظر پڑھ لیتی ہوں
میں گھر کی دیواروں سے لگ کر روتی ہوں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






