ھم تو روشن مہک مہک ھیں
Poet: abdul hameed By: abdul hameed, gumbat kohatآسمان تو نے کیا د یکھا زمیں تو نے کیا بیتا
رہنے نہ د یا کبھی مد ا م جیتا
کیا تو نہیں جا نتا کیا ھے ازل
ازل نے لکھ د یا رھے نہ کوئ د وا م جیتا
زندگی بھر رہی تلا ش سکوں، سکوں، سکوں
روتا نہ کبھی گر اک جام کوئ پلا د یتا
تلاش سکوں میں لگا ہا تھ جا م شراب
کاش کوئ اس غفلت سے مجھے جگا د یتا
کیا کہوں کہاں ھوں کہاں سے آیا ھوں
کویی ھو تا مریض نسیاں کو کچھ دوا د یتا
د کھا د کھا کٹا کٹا یہ ھے خون جگر
تنہا رہا تنہا رھوں کوئ ھوتا مری نوا سنا د یتا
گھپ اندھیرا ھے خول میں ھوں بند
آہ کوئ چھوٹا سا چراغ لگا د یتا
تپش تپش گٹھن گھٹن ھے خول میں
کا ش اک سوراخ ھوتا جو ھوا د یتا
جا تی رھی امید د م گھٹ کر ھی مر نہ جاؤں
کوئ ھوتا پس مرگ میری کہا نی سنا د یتا
کشا د گی تجھے کیوں کر ھوتی نسیب
تو نے د یکھا تو سد ا نیچا د یکھا
ہم تو روشن مہک مہک ہیں
قصور ترا تو نے کبھی نہ أونچا د یکھا
ہمارا شیوہ ھے کرم نظر کرم کرتے رھے
تو فریفتہء رقیب تھا ہم کو ھی سزا د یتا
طوفان ھے چیخ و پکارھے سنائ نھیں د یتی کوئی سد ا
حمید ھیبت نا ک خاموشی کا ھے پتا د یتا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






