ہاتھ اُٹھا کے تیرے لیے آخری دُعا کر دی
Poet: Sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, Lahoreہاتھ اُٹھا کے تیرے لیے آخری دُعا کر دی
حالتِ تنہائی میں اک حسیں خطا کر دی
جو دین ایمان تھی کسی وقت میں اپنا
ترک وہ میں نے دل سے وفا کر دی
سوچا تھا نہ کھولیں گے زباں ہم کبھی
تیرے ظلموں نے مگراب تو انتہا کر دی
جانے کس نرق میں تھے جیتے اب تک
آج سے اک نئی زندگی کی ابتدء کر دی
نہ چل پائے تم دو قدم بھی ساتھ میں
میں نے میری راہ تجھ سے جُدا کر دی
تجھے مشکل تھا بہت ہمارا ساتھ نبھانا
لو!ختم میں نے یہ تیری سزا کر دی
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed







