ہاتھ تھام کر چلنے کو سب تیار ملتے ہیں

Poet: Mubashar Islam By: Mubashar Islam , Lahore

ہاتھ تھام کر چلنے کو سب تیار ملتے ہیں
جو بھی ملتے ہیں افسوس جفاکار ملتے ہیں

لا علم چلتے ہیں منزل کو پانے کے لیے
ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں جب خار ملتے ہیں

میری وفا پہ الزام غرض ہر ادا پہ الزام
میری بستی میں یا رب کیسے ادا کار ملتے ہیں

عہد وفا باندھ لیا آغاز محبت کر بیٹھے
وفا کے روپ میں بھی جیسے اغیار ملتے ہیں

کس کو سنائیں دکھڑا اپنی بے بسی کا
کس سے ملے کوئی جیسے دلدار ملتے ہیں

جب بچھڑنا ہی مقدر ٹھرا بہار میں
آج سر راہ کیوں ہم سے بار بار ملتے ہیں

عمر گزری ہے ثاقب یونہی صدائے وفا دیتے
اہل دل نہ پاؤ گے ہم سا مگر بہت سے فنکار ملتے ہیں

Rate it:
Views: 904
03 Dec, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL