ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں

Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، فُرصت کِتنی ہے
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شُہرت کتنی ہے

سُورج گھر سے نِکل چُکا تھا کِرنیں تیز کیے
شبنم گُل سے پُوچھ رہی تھی, مہلت کتنی ہے

بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں
شہر میں دیکھو سنّاٹے کی دہشت کِتنی ہے

لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں، کیسے بات کُھلے؟
دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کِتنی ہے

سپنے بیچنے آ تو گئے ہو ، لیکن دیکھ تو لو
دُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کِتنی ہے

دیکھ غزالِ رم خُوردہ کی پھیلی آنکھوں میں
ہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے

ایک ادھورا وعدہ اُس کا ، ایک شکستہ دل
لُٹ بھی گئے تو شہرِ وفا کی دولت کِتنی ہے

میں ساحل ہُوں امجد اور وہ دریا جیسا ہے
کِتنی دُوری ہے دونوں میں، قُربت کتنی ہے

Rate it:
Views: 675
14 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL