ہر ایک پل مجھے دکھ درد بے شمار ملے

Poet: انیس ابر By: Hassan, Sialkot

ہر ایک پل مجھے دکھ درد بے شمار ملے
خدا کبھی تو میرے دل کو بھی قرار ملے

زمانہ دشمن جاں ہو گیا یہ غم ہے مگر
مرا نصیب کہ خنجر بدست یار ملے

کیا ہوگی اس سے بھی بڑھ کر کسی کی محرومی
جسے نصیب میں تا مرگ انتظار ملے

اے عالمین کے رازق بتا کہاں جاؤں
مرے وطن میں مجھے جب نہ روزگار ملے

رہے وہ زندہ یا مر جائے فرق کیا ہے جسے
گھٹن زمانے میں اور قبر میں فشار ملے

میں مسکراتا مگر دی نہ اشک نے مہلت
خوشی جب ایک ملی ساتھ غم ہزار ملے

جو جھوٹ بولے حکومت سے داد لے جائے
جو بولے سچ اسے تحفے میں اوج دار ملے

فلک پہ لکھوں ترا نام میرے نام کے ساتھ
اگر کبھی مجھے تاروں پر اختیار ملے

میں جن سے دور ہی رہنا پسند کرتا تھا
وہ زندگی کی مسافت میں بار بار ملے

خوشی سے ابرؔ ہر اک ربط منقطع کر دو
اگر کہی کوئی دنیا میں سوگوار ملے

Rate it:
Views: 457
12 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL