ہم اپنے ہی دل کی داستان لکھیں
Poet: Mubashar Islam By: Mubashar Islam, Lahoreہم اپنے ہی دل کی داستان لکھیں
کوئی ہمیں پاگل کہے کوئی دیوانہ کہے
میں آج خود ہی غم چراغاں کروں
کوئی اسے چوکھٹ کہے کوئی آستانہ کہے
ہم نے پی لی تیری نینوں سے شراب
کوئی اسے آنکھ کہے کوئی میخانہ کہے
کیا نہ کیا عہد وفا نبھانے کے لیے ہم نے
کوئی اسے اپنا کہے کوئی بیگانہ کہے
آج اٹھی ہے دل میں پھر اک ہوک سی
کوئی اسے درد سمجھے میرا کوئی بہانہ کہے
کسی کو سنانے کیلیے اک ہی کافی ہے
کوئی اسے سچ کہے کوئی افسانہ کہے
در کھل گئے آج دل کی ویراں بستی کے
کوئی اسے آمد کہے کوئی زنجروں کا ہٹانا کہے
آج شب نور برس رہا ہے فلک سے
کوئی اسے چودھویں کہے کوئی تیرا مسکرانا کہے
تمام شب آنسوؤں کی لڑیا پروئیں
کوئی اسے اشک کہے کوئی چراغوں کا جلانا کہے
کردی بسر تیرے انتظار میں زندگی اسلام
کوئی اسے انتظار کہے کوئی مجاور کا بٹھانا کہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






