ہم زیندہ ھیں مُردوں کی طرح
Poet: purki By: M.Hassan, Karachiہم زندہ ہیں مُردوں کی طرح
ہم بے بس ہیں جانوروں کی طرح
ہم مقروض ہیں پہلے کی طرح
ہم مانگتے ہیں شاہوں کی طرح
ہم کرتے کراتے کچھ بھی نہیں
مست رہتے ہیں لاکھوں کی طرح
دنیا ہے صرف چند دنوں کا مسکن
ہم رہتے ہیں یہاں مہمانوں کی طرح
لاکھوں سے پھر بھی ہم بہتر ہے
ہم ناخواندہ ہے خوندوں کی طرح
قوم کی بیٹیاں لکھ پڑھ گئیں سب
بیٹے رہ گئے ھائے جاہلوں کی طرح
کب ان کو غیرت آئے گی
فریاد کرو موسٰی کی طرح
قرض لیکر ہم قرض چکاتے ہیں
جان لو قرض ہے ایک مرض کی طرح
قرض عوام کے کھاتے میں ڈال کر
عیش کرتے ہیں خود رئیسوں کی طرح
قرض خود آپس میں بانٹ لیتے ہیں
عوام کو بہلاتے ہیں بچوں کی طرح
ڈالر اپنے کھاتوں میں ڈال کر چُپ چاپ
ورغلاتے ہیں ہمیں شیطانوں کی طرح
آپ نے ہمارے دکھوں کو بڑھایا ہے بہت
اب فیصلے کرو خدارا انسانوں کی طرح
وعدے تو بہت کئے تھے الیکشن سے پہلے
وعدے پورا بھی کرو اللہ کے بندوں کی طرح
وعدہ خلافی بہت بڑا جرم ہے شریف بھائی
کچھ تو اپنے زبان کی لاج رکھو مومنوں کی طرح
بہت سنا ہم نے اپ کی دریا دلی کے قصّے
اب کیوں پیش آرہا ہے ہم سے ظالموں کی طرح
لگتا ہے ہم کو آپ اور زرداری بھائی بھائی
پانچ سال اُس نے بھی لوٹا ہمیں ڈاکوؤں کی طرح
ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے
کیوں ہم سے یہ سلوگ قصائیوں کی طرح
مانا کہ آپ نواز ہے ہمیشہ اپنوں کو نوازتے ہیں
کچھ ہم کو بھی نواز دو مہمان نوازوں کی طرح
اپنا مال متاع سب فارن میں لگا رکھا ہے
غیروں سے یہ تمنّا ہے محض سرابوں کی طرح
چوروں کا بل شریفوں سے وصول کرتا ہے
کوئی تو سچ کو سامنے لائے افتخار کی طرح
دُکھ جھیلیں بی فاختہ کوّے انڈے کھائیں
کیسا ہے دیس کا قانون اندھوں کی طرح
جو ملک و قوم کو لوٹے وہ ہیرو کہلائے
جو دکھ جھیلے ملک کے خاطر وہ زیرو کی طرح
نقّار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے پُرکی
یہ ارمان بھی دب گئی میری اور ارمانوں کی طرح
خود کَش اور خود کُشی کو زرا غور سے سمجھو
ہم بھی یہ صفات رکھتے ہیں طالبان کی طرح
عقل و دانش کو ڈھونڈو محنت اور لگن سے
جو اپنی ذات میں دشمن ہو وہ سدھرے کا کس طرح
کچھ تو کر ملک میں جلد مہنگائی کا علاج
ورنہ عوام ٹوٹ پڑیں گے دیوانوں کی طرح
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






