ہم نے خوشبو کی طرح تجھ میں اترنا چاہا

Poet: UA By: UA, Lahore

ہم نے خوشبو کی طرح تجھ میں اترنا چاہا
تجھ میں رہ کر جو ہم نے اور سنورنا چاہا

اپنی نیندوں کو تیرے خواب میں رنگنا چاہا
اس طرح ہم نے تیرے روپ میں ڈھلنا چاہا

نہ ملا کر اداس لوگوں سے۔۔۔‘ تیرا کہنا عجیب لگتا ہے
تم سے ملنے میں تمہیں کیا معلوم ہم نے کچھ اور سنورنا چاہا

کیوں تمہیں بار بار دیکھتے ہیں آج پوچھا ہے تو بتاتے ہیں
تیری آنکھوں کے راستے ہم نے بس تیرے دل میں اترنا چاہا

ان کی تصویر چاہنے میں راز یہ ہے کہ
انکی تصویر کے تصور سے ہم نے کچھ دیر بہلنا چاہا

چاندنی رات میں کچھ دیر چاندنی کے تلے
ان کی ہمراہی میں کچھ دیر ٹہلنا چاہا

جو مجھے سنگ بنانے پہ تلے ہیں عظمٰی
ہم نے ان کے لئے کچھ اور پگھلنا چاہا

Rate it:
Views: 622
07 Oct, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL