ہم ہیں غریبِ شہر رعنا!
Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAآ بھی گئی وہ گھڑی لوگو
کہ ہر مشکل ہوئی ہے آج مشکل ِ آخر ہماری
ختم ہؤا سفر ِ زندگی یہ آخری ہچکی ہے
صحرا میں چھاگل ِ آخر ہماری
تم جسے کہتے ہو گوشہء قبرستاں
وہ گور غریباں ہے منزل ِ آخر ہماری
کوئی ہمارا ساتھ نہ دے سکا تو کیا ہؤا
ہمارا ہاتھ آ گئی ہے اجل تھامنے
کہ وقت رخصتی ہے ماتم بپا ہے
خلق اشکبار ہے ہماری میت کے سامنے
ہماری نجات کی نوید دی ہے ہم کو
صبح ملال نے ، اس سوگوار شام نے
نہ مہندی لگی نہ ڈھولک بجی
دُلہن ایسے بنی کہ کفن ہم کو پہنا دیا
بارات آ گئی کوئی شاہسوار نہ آیا
ہمیں لینے کو اور جنازہ ہمارا اٹھا دیا
یہ تم نے کیا کیا کہ پہلے پھولوں سے
سجایا ہم کو پھر مٹی تلے دبا دیا
ہم ہیں غریب ِ شہر رعنا
خزاں رسیدہ ایسے کہ شرمندہء بہار نہیں
جہاں سے ہیں بےنیاز ہم
لاحق کوئی ہجر نہیں ہمیں کسی کا انتظار نہیں
ہم سوئیں گے یوں چین سے مزار میں
کہ قیامت تک ہونگے بیدار نہیں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






