ہمارے واسطے تنہائی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreتیری ہر بات مجھے پھر سے یاد آئی ہے
تیری تصویر خیالوں نے پھر بنائی ہے
میں کوئی غیر نہیں نہ ہی تم نا محرم ہو
آپ کی میری زمانے سے شناسائی ہے
تم میرے ساتھ نہیں میں تمہارے پاس نہیں
یہ نہ سمجھو ہمارے واسطے تنہائی ہے
ہر جگہ ہر گھڑی ہر پل تم میرے ساتھ رہتے ہو
میرے دل میں تمہاری یادوں سے بزم آرائی ہے
مجھے خود سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں
مجھ سے کہتے ہیں میری جان یہ رسوائی ہے
کونسے پھول کھلے آج میرے گلشن میں
ایسا لگتا ہے خزاں روٹھی بہار آئی ہے
دل کی تاریکیاں مہکنے جگمگانے لگیں
تمہارے آنے کی خوشبو جو صبا لائی ہے
تیری آہٹ میرے وجود میں ایسے اتری
میری سماعتوں میں گھل رہی شہنائی ہے
تمام دن جو بات خود سے کیا کرتے ہیں
شب ماہتاب میں وہ رات سے دہرائی ہے
آنکھوں میں جو خواب لئے محو جستجو رہے
تمہاری آنکھوں میں اس کی تعبیر نظر آئی ہے
تجھے دیکھ کر آج وہ بھی مسکرا دیا ہوگا
اسی لئے تیری آنکھوں نے خوشی پائی ہے
عظمٰی نے جھوٹے سچے خوابوں میں
زندگی کرنا سیکھی زندگی بتائی ہے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے








