ہمارے واسطے تنہائی ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

تیری ہر بات مجھے پھر سے یاد آئی ہے
تیری تصویر خیالوں نے پھر بنائی ہے

میں کوئی غیر نہیں نہ ہی تم نا محرم ہو
آپ کی میری زمانے سے شناسائی ہے

تم میرے ساتھ نہیں میں تمہارے پاس نہیں
یہ نہ سمجھو ہمارے واسطے تنہائی ہے

ہر جگہ ہر گھڑی ہر پل تم میرے ساتھ رہتے ہو
میرے دل میں تمہاری یادوں سے بزم آرائی ہے

مجھے خود سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں
مجھ سے کہتے ہیں میری جان یہ رسوائی ہے

کونسے پھول کھلے آج میرے گلشن میں
ایسا لگتا ہے خزاں روٹھی بہار آئی ہے

دل کی تاریکیاں مہکنے جگمگانے لگیں
تمہارے آنے کی خوشبو جو صبا لائی ہے

تیری آہٹ میرے وجود میں ایسے اتری
میری سماعتوں میں گھل رہی شہنائی ہے

تمام دن جو بات خود سے کیا کرتے ہیں
شب ماہتاب میں وہ رات سے دہرائی ہے

آنکھوں میں جو خواب لئے محو جستجو رہے
تمہاری آنکھوں میں اس کی تعبیر نظر آئی ہے

تجھے دیکھ کر آج وہ بھی مسکرا دیا ہوگا
اسی لئے تیری آنکھوں نے خوشی پائی ہے

عظمٰی نے جھوٹے سچے خوابوں میں
زندگی کرنا سیکھی زندگی بتائی ہے

Rate it:
Views: 866
30 Jan, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL