ہمدرد ہے تو ایسی سزا دے رہا ہے کیوں ؟
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKہمدرد ہے تو ایسی سزا دے رہا ہے کیوں ؟
جھوٹی تسلیوں کی رِدا دے رہا ہے کیوں ؟
اب کوئی میرے گھر کا دریچہ کھلا نہیں
جھونکا ہوا کا مجھ کو صدا دے رہا ہے کیوں ؟
بن کے بھی میرا بن نہ سکا یہ بھی کم نہیں
بے ا عتباریوں کی سزا دے رہا ہے کیوں ؟
جو دب چکی تھیں وقت کی برفیلی راکھ میں
چنگاریوں کو اب وہ ہوا دے رہا ہے کیوں ؟
لمحہ جو گِر گیا تھا کبھی میرے ہاتھ سے
جینے کی آج مجھ کو ادا دے رہا ہے کیوں ؟
وہ مہرباں ہے یا کوئی نا مہربان ہے
جو جا چکا تھا اُس کا پتہ دے رہا ہے کیوں ؟
جب جانتا ہے مجھ کو ملی کیسی زندگی
پھر زندگی کی مجھ کو دعا دے رہا ہے کیوں ؟
ہے اجنبی تو پھر کیوں اُسے فِکر ہے مری
عذراؔ وہ دردِ دِل کی دوا دے رہا ہے کیوں ؟
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






