ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا
Poet: ہارون By: ہارون, Bahawalpurہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتا
یہاں کسی سے کوئی بے سبب نہیں ملتا
پھر آفتاب کہاں اپنی روشنی بانٹے
نئے چراغوں میں حسن طلب نہیں ملتا
بتا رہی ہیں ادیبوں کے گھر کی تہذیبیں
وراثتوں میں سبھی کو ادب نہیں ملتا
میں جلنے لگتا ہوں تنہائیوں کے دوزخ میں
کبھی وہ میری ضرورت پہ جب نہیں ملتا
اداس مت ہو جو حاصل نہ کر سکا اس کو
کبھی کسی کو زمانے میں سب نہیں ملتا
ہے ذات آپ کی تخلیق دو جہاں کا سبب
نہ ملتے آپ ہمیں ہم کو رب نہیں ملتا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






