ہواؤں کی سمت میں

Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, DUBAI- U.A.E

تاریکیوں کے راج کو بخشا گیا دوام
رکھے گئے چراغ ہواؤں کی سمت میں

کرنوں کا خون سوزن زنداں سے جب گرا
پروانے اڑ کے آئے جفاؤں کی سمت میں

پھانسا گیا تھا جال میں ظلمت کے نور کو
جگنو بھٹک رہے تھے خطاؤں کی سمت میں

پابندیوں کا قہر تھا خیالوں کی راہ پر
جذبے مچل رہے تھے صداؤں کی سمت میں

ہر گام پر کھڑے تھے واں جلاد بے نیام
پھر بھی قدم اٹھے تھے وفاؤں کی سمت میں

زخموں سے چور چور بدن لے کے عشق میں
عشاق بڑھ رہے تھے اداؤں کی سمت میں

وہ التجائیں سن کے بھی پلٹے نہیں کبھی
اشہر کیوں تک رہے ہو دعاؤں کی سمت میں

Rate it:
Views: 460
12 May, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL