ہیرے تراشتے ہیں جو کاغذ کی دھار سے
Poet: راؤ مشتاق ظفر By: Rao Mushtaq Zafar, Mailsiہیرے تراشتے ہیں جو کاغذ کی دھار سے
جینا ہے اُن کا شان سے, مرنا وقار سے
آئے خزاں یا جائے ہمیں اِس کا غم نہیں
ہم تو ہرے بھرے رہے زخمِ بہار سے
بے اختیار ہونے کا شکوہ نہیں مگر
کچھ اِختیار بھی مِلے بے اِختیار سے
اَے چاند تُو کہاں ہے ذرا آ کے دیکھ تو
تَارے میں دیکھتا ہوں یہاں تار تار سے
کب لَوٹ کر ہواؤں نے آنے دیا اُسے
مشتاق جو نکل گیا اپنے مدار سے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






