یا رب میرے وطن میں امن و سکون ہو
Poet: purki By: M.hassan, karachiیا رب میرے وطن میں امن و سکون ہو
ہم سب کی دعائیں تیری بارگاہ میں قبول ہو
سالوں سے ترس رہے ہیں ہم اس نعمت کو
تو امن کا گہوارہ بنادے میری اس جنّت کو
بارے الٰہا جوڑ دے پھر سے ہمارے لوگوں کو
تیرے حبیب کے صدقےایک کردے اس اُمّت کو
ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر گئ ہے تیری اُمّت آجکل
سوچنے سمجھنے کی توفیق دے یارب ہم سب کو
تُو نے ہمیں خلق کیا تھا کافرسے مسلمان بنانے کو
رہ گیا ہے ہمارا مِشن مسلمان سے کافر بنانے کو
پیٹ کی خاطر بنا رکھا ہے مُلّاؤں نے فتواؤں کی فیکٹری
ڈالروں نے فُٹ بال بنا دی ان کے خوبصورت پیٹوں کو
نیلسن منڈیلا سے کچھ تو سبق تم بھی لیا ہوتا یارو
جس نے اپنے ملک سے مٹا دیا ہر طرح کے تعصّب کو
تیس سالہ زندگی جس نے گزاری جیل میں پتھر توڑ کر
جیل سے چھُوٹے تو توڑ دیا ہر طرح کے تکبّر کو
زندگی سادہ گزار دی ہر طرح کی آسائشوں کو ٹھکرا کر
مُسلم حکمرانوتم بھی وقت پر سُدھارلوخود کو
جوانسانیت کا مسیحا تھا گزر گیا ہمیں سبق دیکر
دنیا خراج عقیدت پیش کرتی ہے انکی خدمت کو
لالچ،طمع نمود و نمائش کے خوگر حکمرانوں کو
کون یاد رکھتا ہے دنیا سے گزر جانے کے بعد ان کو
دلوں پہ راج کرنا اور ہے اور جسموں پہ راج کرنا اور
وہی تو اصل لیڈر کہلائے جو جو دلوں پہ راج کرتا ہو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






