یاد آ رہے ہیں دوست پرانے بہت
Poet: Jamil Hashmi By: Jamil Hashmi, Rawalpindiدیکھے ہیں الفت کے زمانے بہت
یاد آ رہے ہیں دوست پرانے بہت
ملتے تھے جو سرراہ کہیں نہ کہیں
لگتے ہیں وہ اب جانے پہچانے بہت
کہتے ہیں بہار آئی ہے چمن میں
پھر کیوں ہیں گلشن ویرانے بہت
بھرتے تھے جو دم الفت کا ہر پل
غمگسار اپنےاب ہیں بیگانے بہت
نہ کرو شکوے زمانے سے جمیل
یہاں اپنے کم ہیں اور بیگانے بہت
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






