یاد یہ کس کی آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
Poet: مظفر رزمی By: سلمان, Karachiیاد یہ کس کی آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
سارے ہی غم بھلا گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
زندگی کیا ہے غم ہے کیا سوچتے سوچتے یوں ہی
مجھ کو ہنسی جو آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
شام فراق میں مجھے تیرے ہی غم کے فیض سے
نیند اچانک آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
آج وفا کے ساز پر کون یہ عبرت سخن
میری غزل سنا گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
شدت رنج و یاس میں بھولی ہوئی کوئی خوشی
اتنا مجھے رلا گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
اچھا ہوا کہ دل کی بات آج کسی کے روبرو
میری زباں تک آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
یہ بھی خدا کا فضل ہے میری نوائے زندگی
اوروں کے کام آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
کشمکش حیات میں حد سے بڑھیں جو الجھنیں
آپ کی یاد آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
رزمیؔ بے قرار کو اہل خلوص کی نظر
پیار سے جب سلا گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






