یادوں کی دیمک لگ گئی ہیں دل میں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.Aیادوں کی دیمک لگ گئی ہیں دل میں
چہرے پر روانی کہاں سے آئے گی
خالی ہاتھوں پر مہندی کا ارمان لیے ترستے رہے
کبھی سوچا ہی نہیں وہ مہندی کہاں سے آئے گی
بے خبر دیوانوں کی طرح راستوں میں کھڑی رہی
ُاس سے پوچھا نہیں ُاس کی سواری کہاں سے آئے گی
بے نقاب دیکھ لیا اب تو ُاس نے مجھے لیکن
ُاس کی خوشی میں راز داری کہاں سے آئے گی
کتنی خاموش وہ شخص محبت کرتا ہے مجھے
نہیں معلوم اظہار کی بے قراری کہاں سے آئے گی
خدا نے پیدا کیا ہے تو پھر خدا پر ہی سونپ دیتی ہوں
ُاس کے چاہے بناء میری زندگی میں خوشی کہاں سے آئے گی
More Sad Poetry






