یار ہے نہ کوئی بہار اپنی
Poet: ZIA ULLAH TAHIR By: ZIA ULLAH TAHIR, ISLAMABAD.یار ہے نہ کوئی بہار اپنی
گزری ہو کے ساری خوار اپنی
سنتا نہیں کوئی ہجوم شہر میں
ہوئی ہے صدا بصحرا پکار اپنی
کہاں ہے وہ شخص ، جس پر
کرنی ہے ہمیں جاں نثار اپنی
برسات کے دیکھنے والوں کو
دکھانی ہے چشم اشک بار اپنی
گزرے چپکے سے قریب سے یوں
نہ آئی نظر لوح مزار اپنی
بعد مرگ بھی ہیں کھلی آنکھیں
نہ گئی مگر خوئے انتظار اپنی
ہکدرد ہے نہ درد آشنا کوئی
کہیں پھر کسے حالت زار اپنی
عبث ہے شکوہ بیداد کرنا
خامشی سے زندگی گزار اپنی
یاد رہے گی تا دیر بہت
گزری کیسے حیات مستعار اپنی
کرنا پڑے گا کتنا انتظار اور
چھوٹے گی کب جان بیقرار اپنی
چھوڑ دو ہمیں حال پر ہمارے
فقیہہ شہر سنبھال تو دستار اپنی
زہر ہے سفر ، تنہائی کا مجھے
لاؤں کہاں سے قسمت بیدار اپنی
دھوپ کا سفر طویل ، مگر کہاں
قسمت میں سایہ دیوار یار اپنی
کہیں کس کو ہم گھر اپنا
در ہے نہ کوئی دیوار اپنی
ملو گے تو پاؤ گے طاہر
جدا سب سے ہے گفتار اپنی
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






