یوں اچانک تیرا بچھڑنا
Poet: Asad Sipra By: Asad Sipra, Faisalabad یوں بہرے ھوے ھم! کہ قدم در قدم چلتے گئے
لگے چپ کے تالے یوں! کہ دن بدن ڈگماتے گئے
گر جو چھوڑنا ہی تھا ممکن! تو یوں پاس آئے کیوں
نہ سوالاً نہ جواباً ہوا کوئی تذکرہ! تم یونہی بچھڑ گئے
مجھ کو معلوم نہ تھا! کہ تم یوں بچھڑ جاؤ گے
کیے تھے جو تم نے وعدے! کیا یوں نبھاؤ گے
کیا کمی تھی مجھ میں ! تم بتلا بھی تو سکتے تھے
نہ احساس رہا میرے جذباتوں کا! بس یونہی تم کھیلتے گئے
قدر خواہاں تھا! تیرے پیراھن کا بھی
گزری جو عمر تیرے سنگ! اس پہ بھی داغ لگاتے گئے
تم اور میں ! کیسے کیسے یقین میں تھے بندھے
کتنے ناداں تھے! پھر بھی یونہی توڑتے گئے
میں جو اگر گزر جاوں! تو حرف دعا پڑھنے چلے آنا اسّد
چلو اچھا کیا! کسی اور کی خاطر کسی کو چھوڑتے گئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







