یوں شادی کی پہلی رات منائی جائے گی
Poet: ارسلان محو By: آصف بلال, Khanewalآس سے آس ملائی جائے گی
یوں شادی کی پہلی رات منائی جائے گی
سلسلہ قبولیت کا شروع ہوگا پاؤں سے
پھر آنکھ سے آنکھ ملائی جائے گی
اک جگہ جدائی کے گریں گے آنسوں
تو کہیں قبولیت کے نام پہ آوارگی منائی جائے گی
کہیں نا محرم کو محرم بنا کے منہ دکھائی دی جائے گی
تو کہیں کسی کی میت غیروں کو دکھائی جائے گی
اور پھر محبت کے ساتھ ہوگا کھلواڑ
تو کہیں شادی کے نام پہ حوس مٹائی جائے گی
اُس رات سے مشکل نہ ہوگی کوئی رات
پھر اس رات سی پوری زندگی منائی جائے گی
وہ کہتا تھا اسے کوئی دیکھے تو نوچ لوں گا
وہ رات اور پھر سب سے آنکھیں ملائی جائے گی
قیامت خیز ہے اس کی فقط خاموشی
کیا ہو جب اس کی آنکھوں میں نمی آئے گی
محشر میں پھر ہم کریں گے شکوہ خدا سے
وہاں پھر عادتاً نظریں چرائی جائیں گی
آس سے آس ملائی جائے گی
یوں شادی کی پہلی رات منائی جائے گی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






