یہ تو سچ ہے کہ وہ کب کا مرا گھر چھوڑ گیا

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

یہ تو سچ ہے کہ وہ کب کا مرا گھر چھوڑ گیا
ہاں مگر جاتے ہوۓ اپنا اثر چھوڑ گیا

آئنہ ہو یا ہو دیوار پہ لٹکی تصویر
گھر کی ہر چیز میں وہ اپنا ثمر چھوڑ گیا

میرے محبوب کو اتنی تھی محبت مجھ سے
اپنا غم میرے لیۓ شام و سحر چھوڑ گیا

روتے رہنا مرا بھاتا تھا اسے بھی شاید
یار جاتے ہوۓ آنکھیں مری تر چھوڑ گیا

وہ نہ لوٹا تو لگا یوں کہ مسافر تھا کوئی
جو ہمیشہ کلۓ راہگزر چوڑ گیا

میں تو ماں باپ کی ناکارہ سی اولاد جو تھا
باپ کیوں میرے لیۓ لعل و گوہر چھوڑ گیا

رہنا ہر دؤر میں ہے دینِ محمدؐ زندہ
نوکِ نیزہ پہ حُسینؑ اپنا جو سر چھوڑ گیا

مجھ کو روتے ہوۓ باقرؔ یہ کہیں گے کبھی لوگ
ایک خاکی اک مٹی کا نگر چھوڑ گیا

Rate it:
Views: 456
03 Feb, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL