یہ تو سچ ہے کہ وہ کب کا مرا گھر چھوڑ گیا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiیہ تو سچ ہے کہ وہ کب کا مرا گھر چھوڑ گیا
ہاں مگر جاتے ہوۓ اپنا اثر چھوڑ گیا
آئنہ ہو یا ہو دیوار پہ لٹکی تصویر
گھر کی ہر چیز میں وہ اپنا ثمر چھوڑ گیا
میرے محبوب کو اتنی تھی محبت مجھ سے
اپنا غم میرے لیۓ شام و سحر چھوڑ گیا
روتے رہنا مرا بھاتا تھا اسے بھی شاید
یار جاتے ہوۓ آنکھیں مری تر چھوڑ گیا
وہ نہ لوٹا تو لگا یوں کہ مسافر تھا کوئی
جو ہمیشہ کلۓ راہگزر چوڑ گیا
میں تو ماں باپ کی ناکارہ سی اولاد جو تھا
باپ کیوں میرے لیۓ لعل و گوہر چھوڑ گیا
رہنا ہر دؤر میں ہے دینِ محمدؐ زندہ
نوکِ نیزہ پہ حُسینؑ اپنا جو سر چھوڑ گیا
مجھ کو روتے ہوۓ باقرؔ یہ کہیں گے کبھی لوگ
ایک خاکی اک مٹی کا نگر چھوڑ گیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






