یہ دِل کی تمنا ہے کہ اِس دل میں رہا کر

Poet: Arif Hussain Arif By: Qasim Raza, Faisalabad

یہ دِل کی تمنا ہے کہ اِس دل میں رہا کر
خواہش کو کبھی دیس نکالا نہ دِیا کر

میں نفرتِ احباب کے صدمے سے نبٹ لوں
اے زندگی لازم ہے کہ تو مجھ سے وفا کر

تجھ کو بھی کچل ڈالا ہے دنیا کی ہوس نے
میں نے نہ کہا تھا کہ زمانے سے بچا کر

یہ دِل کہ تیری یاد سے غافِل نہیں رہتا
دیکھا ہے اسے اور بھی کاموں میں لگا کر

میں عمر گزاروں گا اسی قید میں رہ کر
کب میں نے کہا پیار کے زنداں سے رہا کر

جس شخص نے دنیا کیلئے ہم کو بھلایا
اِک روز وہ آئے گا زمانے کو بھلا کر

اے واعظِ منبر ہے نصیحت میری تجھ کو
کچھ کام تو دنیا میں فسادوں کے سوا کر

اک روز ہے اس مٹی کے نیچے تجھے جانا
اس طرح نہ اترا کے زمیں پر تو چلا کر

عارف جو حقیقت ہے وہ باتوں میں کہاں ہے
ممکن ہو تو لوگوں کی نگاہوں کو پڑھا کر

Rate it:
Views: 812
26 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL