یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں (ایک گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanیہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
اب ہو چکی ہے کسی اور ہی سے تو منسوب
زباں سے کہہ نہ سکے گی مجھے کبھی محبوب
نجانے پھر کیوں ترا انتظار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
بھلا دوں کیسے وہ گزرے ہوئے حسیں لمحے
جو تیری سانسوں سے مہکے تھے دلنشیں لمحے
تجھے بھلانے کی کوشش تو یار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
گزر رہے ہیں شب و روز اس طرح میرے
ہر ایک لمحہ ستاتے ہیں مجھ کو غم تیرے
میں اپنے دل کو یونہی سوگوار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
یہ زندگی ہے مری یا ہے کوئی ویرانہ
مجھے تسلی ہی دینے کبھی چلی آنا
میں یاد تجھ کو بہت بار بار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






