یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں (ایک گیت)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistan

یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں

اب ہو چکی ہے کسی اور ہی سے تو منسوب
زباں سے کہہ نہ سکے گی مجھے کبھی محبوب

نجانے پھر کیوں ترا انتظار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں

یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں

بھلا دوں کیسے وہ گزرے ہوئے حسیں لمحے
جو تیری سانسوں سے مہکے تھے دلنشیں لمحے

تجھے بھلانے کی کوشش تو یار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں

یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں

گزر رہے ہیں شب و روز اس طرح میرے
ہر ایک لمحہ ستاتے ہیں مجھ کو غم تیرے

میں اپنے دل کو یونہی سوگوار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں

یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں

یہ زندگی ہے مری یا ہے کوئی ویرانہ
مجھے تسلی ہی دینے کبھی چلی آنا

میں یاد تجھ کو بہت بار بار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں

یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں

Rate it:
Views: 1350
12 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL