یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں (ایک گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanیہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
اب ہو چکی ہے کسی اور ہی سے تو منسوب
زباں سے کہہ نہ سکے گی مجھے کبھی محبوب
نجانے پھر کیوں ترا انتظار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
بھلا دوں کیسے وہ گزرے ہوئے حسیں لمحے
جو تیری سانسوں سے مہکے تھے دلنشیں لمحے
تجھے بھلانے کی کوشش تو یار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
گزر رہے ہیں شب و روز اس طرح میرے
ہر ایک لمحہ ستاتے ہیں مجھ کو غم تیرے
میں اپنے دل کو یونہی سوگوار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
یہ زندگی ہے مری یا ہے کوئی ویرانہ
مجھے تسلی ہی دینے کبھی چلی آنا
میں یاد تجھ کو بہت بار بار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
یہ سوچتا ہوں میں کیوں تجھ سے پیار کرتا ہوں
کیوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






