یہ عمــــر تھی نہ ابھی ہجــــر کے زمانے تھے
Poet: علی اعجاز تمیمی By: علی, Hyderabadیہ عمــــر تھی نہ ابھی ہجــــر کے زمانے تھے
مجـھے تــو یار ابـــھی قہقہـــے لـگانے تھـــے
اسی لیـے تو چھـــپاے ہیں جا کـے مٹی میں
وہ لـــوگ لــوگ نہیـــں قیمتی خــــزانے تھے
وہــی جـــدائی وہــی دوریــوں کا ماتــــم ہے
جــــدید دور میں صدمے وہــی پـــــرانے تھے
گھـــــڑی کی ایک سـوئی ہِل نہیں رہی جیسے
بچھـــڑتے وقـت کـا لــمحہ کئی زمـــانــے تھے
جــہانِ کـــن فیـــــکوں مجھ پہ ناز کــرتا تھا
میـــرےخـــدا و پیمبر ﷺ سے دوستانے تھے
کـــنارِ آب تھی ســــورج سے دوستی جس کا
یہاں پہ عــــکس کـــہیں اور پــــر ٹھکانے تھے
یہ کـــس نے رات کــے بارہ بـــجے اٹـــھایا ہے
ابــھی تو خـــواب مجھے روشـنی کے آنے تھے
یـہی بــیان ہـے پھر امــــن تک لـــڑیں گے ہــم
مـــــراد یہ کہ ابـــھی اور بـــم چـــــلانے تھے
تمـــہی نـے کال مـــلائی نــہیں وگـــرنہ تــــو
بـــــس ایک فــــون پہ احباب مان جانے تھے
شـــکستـگی سے بـــڑی پــختگی مـلانی تھی
یہ حـــادثات کـــسی جـــیت کــــے بہانے تھے
ہـــمیں تــــو اور بھی اعـــجاز فن دکھانا تھا
بہت سے حــــرف ســرائے سخن میں آنے تھے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے







