یہ میری شاعری ہے تک بندی ۔۔۔ تم یہ دیکھو خیال کیسا ہے
Poet: Dr. Riaz Ahmed By: Dr. Riaz Ahmed, Karachi.میرے بستر کا حال کیسا ہے
اُس نے پوچھا سوال کیسا ہے
اُس نے دل میں کبھی نہیں جھانکا
دے دوں اُس کو یہ کھال کیسا ہے
گھر میں دشمن بلا کے رکھو تم
رکھے وہ دیکھ بھال کیسا ہے
خود چلا شوق سے تھا پستی میں
اب ہے حیراں زوال کیسا ہے
یہ میری شاعری ہے تک بندی
تم یہ دیکھو خیال کیسا ہے
تم چلو سیدھے راہِ الفت میں
وہ چلے تم سے چال کیسا ہے
وقت پہ معذرت بڑی شے ہے
اپنے دشمن کو ٹال کیسا ہے
ہم کو ڈھونڈے مِلا نہ راہ نما
دیکھو قحط الرجال کیسا ہے
تم کو ازخود بلا کے کھانے پر
خالی رکھے وہ تھال کیسا ہے
اُس نے سوچا ہے رکھ کے دوں گا اِک
پیش کردوں میں گال کیسا ہے
خود کو بے تیغ نہ کبھی کرنا
ٹپکے دشمن کی رال کیسا ہے
تیرا کہنا ہے تیرا دوست ہے وہ
سر پہ رکھی ہے نال کیسا ہے
بھرے تجوریاں تو مجھ کو کیا
آیا کِدھر سے مال، کیسا ہے
کبھی یہ سوچ بھی لیا کر تو
آیا تجھ پر وبال کیسا ہے
بحرِ دنیا میں میں تو زندہ تھا
اب یہ مجھ پر اُچھال کیسا ہے
کہا یہ زندوں کو دفن کرکے
دی دبا میں نے پال کیسا ہے
بے رخی زندگی میں ۔۔۔ مرنے پہ
اُس کو دیکھو فعال کیسا ہے
اس نے خود سے تو کچھ نہیں کرنا
لائے طوطا جو فال کیسا ہے
مجھ سے غصے میں یا حیا میں ہے
اب ہوا منہ جو لال کیسا ہے
بڑی جلدی پڑی تھی گھر پہنچے
وہ جا پڑا ہسپتال کیسا ہے
علمِ دیں تیر دوسروں کے لئے
اور کہیں میری ڈھال کیسا ہے
اِس سے اچھا کہیں میں کل میں تھا
آیا مجھ پر یہ سال کیسا ہے
بے بسی سامنے ہے، میں بپھرا
اب ہو اُس کا وصال کیسا ہے
مخلصی ڈھونڈتا میں پھرتا ہوں
اُس کا دیکھو یہ کال کیسا ہے
اپنے لاشے کا گورکن میں ہوں
تختی گلے میں ڈال کیسا ہے
مجھ پہ قرضوں کے سخت ریشوں سے
یہ بنتا قفس کا جال کیسا ہے
آگ پہ چلتا ہوا مست ریاض
دیکھو ۔۔۔ بودم بے دال کیسا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






