ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﭩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺟﺎﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﮐﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﮨﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﭘﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺟﯿﺴﮯ
ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻧﻈﺮ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺟﯿﺴﮯ
ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺰ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭼﻠﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






